ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے

Urdu Poetry
Urdu Poetry

ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے 

کس کو سیراب کرے وہ کسے پیاسا رکھے 

عمر بھر کون نبھاتا ہے تعلق اتنا 

اے مری جان کے دشمن تجھے اللہ رکھے 

ہم کو اچھا نہیں لگتا کوئی ہم نام ترا 

کوئی تجھ سا ہو تو پھر نام بھی تجھ سا رکھے 

دل بھی پاگل ہے کہ اس شخص سے وابستہ ہے 

جو کسی اور کا ہونے دے نہ اپنا رکھے 

کم نہیں طمع عبادت بھی تو حرص زر سے 

فقر تو وہ ہے کہ جو دین نہ دنیا رکھے 

ہنس نہ اتنا بھی فقیروں کے اکیلے پن پر 

جا خدا میری طرح تجھ کو بھی تنہا رکھے 

یہ قناعت ہے اطاعت ہے کہ چاہت ہے فرازؔ 

ہم تو راضی ہیں وہ جس حال میں جیسا رکھے 

Post a Comment

0 Comments