اک دن تم نے مجھ سے کہا تھا

Urdu Poetry
Urdu Poetry

اک دن 

تم نے مجھ سے کہا تھا 


دھوپ کڑی ہے 


اپنا سایہ ساتھ ہی رکھنا 


وقت کے ترکش میں جو تیر تھے کھل کر برسے ہیں 


زرد ہوا کے پتھریلے جھونکوں سے 


جسم کا پنچھی گھایل ہے 


دھوپ کا جنگل پیاس کا دریا 


ایسے میں آنسو کی اک اک بوند کو 


انساں ترسے ہیں 


تم نے مجھ سے کہا تھا 


سمے کی بہتی ندی میں 


لمحے کی پہچان بھی رکھنا 


میرے دل میں جھانک کے دیکھو 


دیکھو ساتوں رنگ کا پھول کھلا ہے 


وہ لمحہ جو میرا تھا وہ میرا ہے 


وقت کے پیکاں بے شک تن پر آن لگے 


دیکھو اس لمحے سے کتنا گہرا رشتہ ہے 

Post a Comment

0 Comments