اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا

Urdu Poetry
Urdu Poetry

 اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا 

ہجر کی رات بام پر ماہ تمام رکھ دیا 

آمد دوست کی نوید کوئے وفا میں عام تھی 

میں نے بھی اک چراغ سا دل سر شام رکھ دیا 

شدت تشنگی میں بھی غیرت مے کشی رہی 

اس نے جو پھیر لی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا 

اس نے نظر نظر میں ہی ایسے بھلے سخن کہے 

میں نے تو اس کے پاؤں میں سارا کلام رکھ دیا 

دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیں 

میں نے تو سب حساب جاں بر سر عام رکھ دیا 

اب کے بہار نے بھی کیں ایسی شرارتیں کہ بس 

کبک دری کی چال میں تیرا خرام رکھ دیا 

جو بھی ملا اسی کا دل حلقہ بگوش یار تھا 

اس نے تو سارے شہر کو کر کے غلام رکھ دیا 

اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے 

ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا

Post a Comment

0 Comments