توفیق سے کب کوئی سروکار چلے ہے

 Urdu Poetry
Urdu Poetry

توفیق سے کب کوئی سروکار چلے ہے 

دنیا میں فقط طالع بیدار چلے ہے 

ٹھہروں تو چٹانوں سی کلیجے پہ کھڑی ہے 

جاؤں تو مرے ساتھ ہی دیوار چلے ہے 

ہر غنچہ بڑے چاؤ سے کھلتا ہے چمن میں 

ہر دور کا منصور سر دار چلے ہے 

رنگوں کی نہ خوشبو کی کمی ہے دل و جاں کو 

توشہ جو چلے ساتھ وہ اک خار چلے ہے 

دل کے لیے بس آنکھ کا معیار بہت ہے 

جو سکۂ جاں ہے سر بازار چلے ہے 

حیرت سے شگوفوں کی جھپکتی نہیں آنکھیں 

کس آن سے کانٹوں کا خریدار چلے ہے 

خورشید وہاں ہم نے سلگتے ہوئے دیکھے 

کرنوں کا جس آشوب میں بیوپار چلے ہے 

اک جنبش مژگاں کی اجازت بھی نہیں ہے 

دل ساتھ چلا ہے کہ ستم گار چلے ہے 

تھے خضر بھی لاکھوں یہاں عیسیٰ بھی بہت تھے 

آزار جو دل کا ہے سو آزار چلے ہے 

Post a Comment

0 Comments