روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں

Urdu Poetry
Urdu Poetry

 روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں 

در سے اٹھتے ہیں تو دیوار سے لگ جاتے ہیں 

عشق آغاز میں ہلکی سی خلش رکھتا ہے 

بعد میں سیکڑوں آزار سے لگ جاتے ہیں 

پہلے پہلے ہوس اک آدھ دکاں کھولتی ہے 

پھر تو بازار کے بازار سے لگ جاتے ہیں 

بے بسی بھی کبھی قربت کا سبب بنتی ہے 

رو نہ پائیں تو گلے یار سے لگ جاتے ہیں 

کترنیں غم کی جو گلیوں میں اڑی پھرتی ہیں 

گھر میں لے آؤ تو انبار سے لگ جاتے ہیں 

داغ دامن کے ہوں دل کے ہوں کہ چہرے کے فرازؔ 

کچھ نشاں عمر کی رفتار سے لگ جاتے ہیں

Post a Comment

0 Comments