کہتے ہیں کہ اب ہم سے خطا کار بہت ہیں

Urdu Poetry
Urdu Poetry


کہتے ہیں کہ اب ہم سے خطا کار بہت ہیں 

اک رسم وفا تھی سو وفادار بہت ہیں 

لہجے کی کھنک ہو کہ نگاہوں کی صداقت 

یوسف کے لیے مصر کے بازار بہت ہیں 

کچھ زخم کی رنگت میں گل تر کے قریں تھے 

کچھ نقش کہ ہیں نقش بہ دیوار بہت ہیں 

راہوں میں کوئی آبلہ پا اب نہیں ملتا 

رستے میں مگر قافلہ سالار بہت ہیں 

اک خواب کا احساں بھی اٹھائے نہیں اٹھتا 

کیا کہئے کہ آسودۂ آزار بہت ہیں 

کیوں اہل وفا زحمت بیداد نگاہی 

جینے کے لیے اور بھی آزار بہت ہیں 

ہر جذبۂ بے تاب کے احکام ہزاروں 

ہر لمحۂ بے خواب کے اصرار بہت ہیں 

پلکوں تلک آ پہنچے نہ کرنوں کی تمازت 

اب تک تو اداؔ آئنہ بردار بہت ہیں 

Post a Comment

0 Comments