سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی

 Urdu Poetry
Urdu Poetry

سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی 

دل نے چاہا بھی اگر ہونٹوں نے جنبش نہیں کی 

اہل محفل پہ کب احوال کھلا ہے اپنا 

میں بھی خاموش رہا اس نے بھی پرسش نہیں کی 

جس قدر اس سے تعلق تھا چلا جاتا ہے 

اس کا کیا رنج ہو جس کی کبھی خواہش نہیں کی 

یہ بھی کیا کم ہے کہ دونوں کا بھرم قائم ہے 

اس نے بخشش نہیں کی ہم نے گزارش نہیں کی 

اک تو ہم کو ادب آداب نے پیاسا رکھا 

اس پہ محفل میں صراحی نے بھی گردش نہیں کی 

ہم کہ دکھ اوڑھ کے خلوت میں پڑے رہتے ہیں 

ہم نے بازار میں زخموں کی نمائش نہیں کی 

اے مرے ابر کرم دیکھ یہ ویرانۂ جاں 

کیا کسی دشت پہ تو نے کبھی بارش نہیں کی 

کٹ مرے اپنے قبیلے کی حفاظت کے لیے 

مقتل شہر میں ٹھہرے رہے جنبش نہیں کی 

وہ ہمیں بھول گیا ہو تو عجب کیا ہے فرازؔ 

ہم نے بھی میل ملاقات کی کوشش نہیں کی

Post a Comment

0 Comments