قیمتی موتی __!!
شیخ جلال الدین نے سید الاقطاب میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت شیخ کا دریا کے کنارے گزر ہوا وہاں ایک ہندو جوگی آنکھیں بند کئے ہوئے بیٹھا تھا۔
تھوڑی دیر میں اس نے آنکھیں کھولیں اور شیخ کی طرف متوجہ ہوکر بڑی مبارک باد دی کہ تم بڑے اچھے وقت پر دریا پر آئے ہو اسلئے کہ میرے پاس ایک پارس کی پتھری ہے اور میں نے اپنے دل میں یہ عہد کیا تھا کہ آنکھیں کھولنے کے بعد جو شخص سب سے پہلے نظر پڑے گا اس کو دونگا، اب اتفاقاً تو مل گیا یہ کہہ کر بڑے احسان رکھ کہ وہ پتھری حضرت شیخ کی نظر کر دی۔
حضرت نے لے کر اس کو دریا میں ڈال دیا وہ جوگی انتہائی غصہ سے بےچین و مضطرب ہوا اور نہایت حسرت و قلق سے رو کر کہنے لگا کہ یہ کیا کیا ایسی نایاب چیز کی یہی قدر تھی پس میرا پتھر مجھے واپس کرو حضرت نے فرمایا کہ تم مجھ کو دے چکے تھے مجھے اختیار تھا کہ جو چاھے کروں،
اس نے بے چینی پر اصرار کیا حضرت شیخؒ نے فرمایا کہ دریا میں گھس جا اور اپنا پتھر اٹھا مگر شرط یہ ہے اپنا ہی پتھر اٹھانا وہاں گھس کر دیکھا کہ اس سے بہتر سینکڑوں پتھریاں وہاں پڑی ہیں اپنے پتھر کے ساتھ ایک اور چپکے سے اٹھالی ،
حضرتؒ نے آواز سے فرمایا کہ یہ بد عہدی ہے بلا آخر وہ دونوں پتھریاں لایا اور لاکر حضرت کی خدمت میں سر رکھ دیا اور مسلمان ہوگیا۔۔ ( تاریخ مشائخ چشت ص، ۱۸۵)

0 Comments