وہ دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہو گا

 Urdu Poetry
Urdu Poetry


 وہ دیکھنے مجھے آنا تو چاہتا ہو گا

مگر زمانے کی باتوں سے ڈر گیا ہو گا


اسے تھا شوق بہت مجھ کو اچھا رکھنے کا

یہ شوق اوروں کو شاید برا لگا ہو گا

کبھی نہ حدِ ادب سے بڑ ہے تھے دیدہ و دل

وہ مجھ سے کس لیے کس بات پر خفا ہو گا

مجھے گمان ہے یہ بھی یقین کی حد تک

کسی سے بھی نہ وہ میری طرح ملا ہو گا

کبھی کبھی تو ستاروں کی چھاؤں وہ بھی

مرے خیال میں کچھ دیر جاگتا ہو گا

وہ اس کا سادہ و معصوم والہانہ پنکسی بھی 

جگ میں کوئی دیوتا بھی کیا ہو گا

نہیں وہ آیا تو جالب گلہ نہ کر اس کا

نجانے کیا اسے در پیش مسئلہ ہو گا

حبیب جالب


Post a Comment

0 Comments