اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا

 urdu Poetry
Urdu Poetry


 اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا 

اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا 


ڈھلتی نہ تھی کسی بھی جتن سے شب فراق 

اے مرگ ناگہاں ترا آنا بہت ہوا 

ہم خلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدا 

اتنے سے واقعے کا فسانہ بہت ہوا 

اب ہم ہیں اور سارے زمانے کی دشمنی 

اس سے ذرا سا ربط بڑھانا بہت ہوا 

اب کیوں نہ زندگی پہ محبت کو وار دیں 

اس عاشقی میں جان سے جانا بہت ہوا 

اب تک تو دل کا دل سے تعارف نہ ہو سکا 

مانا کہ اس سے ملنا ملانا بہت ہوا 

کیا کیا نہ ہم خراب ہوئے ہیں مگر یہ دل 

اے یاد یار تیرا ٹھکانہ بہت ہوا 

کہتا تھا ناصحوں سے مرے منہ نہ آئیو 

پھر کیا تھا ایک ہو کا بہانہ بہت ہوا 

لو پھر ترے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکر 

احمد فرازؔ تجھ سے کہا نہ بہت ہوا

اب کیا کہیں یہ قصہ پرانا بہت ہوا 

ڈھلتی نہ تھی کسی بھی جتن سے شب فراق 

اے مرگ ناگہاں ترا آنا بہت ہوا 

ہم خلد سے نکل تو گئے ہیں پر اے خدا 

اتنے سے واقعے کا فسانہ بہت ہوا 

اب ہم ہیں اور سارے زمانے کی دشمنی 

اس سے ذرا سا ربط بڑھانا بہت ہوا 

اب کیوں نہ زندگی پہ محبت کو وار دیں 

اس عاشقی میں جان سے جانا بہت ہوا 

اب تک تو دل کا دل سے تعارف نہ ہو سکا 

مانا کہ اس سے ملنا ملانا بہت ہوا 

کیا کیا نہ ہم خراب ہوئے ہیں مگر یہ دل 

اے یاد یار تیرا ٹھکانہ بہت ہوا 

کہتا تھا ناصحوں سے مرے منہ نہ آئیو 

پھر کیا تھا ایک ہو کا بہانہ بہت ہوا 

لو پھر ترے لبوں پہ اسی بے وفا کا ذکر 

احمد فرازؔ تجھ سے کہا نہ بہت ہوا

Post a Comment

0 Comments