حضرت موسیٰ علیہ السلام و فرعون کا مناظرہ: Islamic Stories

 حضرت موسیٰ علیہ السلام و فرعون کا مناظرہ:
 Islamic Stories
Islamic Stories

اللہ تعالی کی ربوبیت و اُلوہیت کا انکار کرنے والوں میں ایک فرعون بھی ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں مصر کا بادشاہ تھا،قرآن میں حضرت موسیٰ اور فرعون کے ایک مباحثہ کا ذکر ہے جو اس وقت پیش آیا تھا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے فرعون کے پاس ہدایت کا پیغام دیکر بھیجا تھا ،حضرت موسیٰ نے اس سے کہا کہ مجھے میرے رب نے رسولوں میں سے بنالیا ہے :

قرآن کریم میں ہے :

ترجمہ: فرعون نے کہا کہ رب العالمین کیا ہے؟ موسیٰ نے فرمایا کہ وہ آسمانوں اور زمین اور ان کے مابین کی چیزوں کا رب ہے ،اگرتم یقین مانو، وہ اپنے ارد گرد جمع اپنے لوگوں کو دیکھکر کہنے لگا کہ کیا سنتے نہیں کہ کیا کہہ رہا ہے؟ حضرت موسیٰ نے فرمایا کہ وہ تمہارا اور تمہارے پچھلے باپ دادوں کا بھی رب ہے ، اپنے لوگوں سے کہنے لگا کہ بلا شبہ یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے مجنون ہے حضرت موسیٰ نے کہا کہ وہ مشرق و مغرب کا اور ان کے درمیان کی چیزوں کا بھی رب ہے اگر تم عقل سے کام لو ، کہنے لگا کہ اگر تو نے میرے علاوہ کسی اور کو خدا بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں ڈالدوں گا ، فرمایا کہ کیا اگرچہ میں کھلی دلیل لے آؤں تب بھی ؟ کہنے لگا کہ پھر دلیل لے آ، اگر تو سچوں میں سے ہے۔ [ الشعرا ء : ۳ ۲ - ۱ ۳ ]

اس میں فرعون کا اللہ کی خدائی سے انکار اور اپنے خدا ہونے کا دعویٰ موجود ہے اور قرآن میں یہ بھی ہے کہ وہ اپنے کو رب اعلی کہتا تھا ،چنانچہ ارشاد ربانی ہے کہ :

پس اس نے کہا کہ میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں ، پس اللہ نے اس کو آخرت اور دنیا کی سزا میں گرفتار کیا ،بلاشبہ اس میں ڈرنے والے کے لیے عبرت کا سامان ہے۔ [النازعات:۲۴-۲۶] 

الغرض اس قسم کے نہایت متکبر اور معاند بے وقوفوں کے سوا کوئی اللہ کی ربوبیت کا انکار کرنے والا نہیں تھا ؛ بلکہ مشرکین بھی اللہ کی ربوبیت کو اسی طرح مانتے تھے جیسے مؤمن مانتے ہیں ۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ اپنی کتاب ’’ حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ میں توحید کے چار مراتب بیان کیے ہیں ایک یہ کہ واجب الوجود ہونے کو صرف اللہ تعالی میں منحصر ماننا، دوسرا یہ کہ عرش اور زمین و آسمان اور تمام جواہرکی تخلیق کو اللہ میں منحصر ماننا ،اس کے بعد لکھتے ہیں :

ترجمہ : ان دو مراتب سے کتب الہیہ میں بحث نہیں کی گئی ہے اور ان میں نہ عرب کے مشرکین نے اختلاف کیا ہے ، نہ یہود نے اور نہ نصاری نے اختلاف کیا ہے ؛ بل کہ قرآن عظیم اس بات کی تصریح کرتا ہے کہ توحید کے یہ دو مرتبے ان لوگوں کے نزدیک بھی مسلمات میں سے ہیں۔ (حجۃ اللہ البالغہ :۱؍۱۷۵)

Post a Comment

0 Comments