گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا

Urdu Poetry
Urdu Poetry

 گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا 

مدتوں کے بعد کوئی ہم سفر اچھا لگا 

دل کا دکھ جانا تو دل کا مسئلہ ہے پر ہمیں 

اس کا ہنس دینا ہمارے حال پر اچھا لگا 

ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود 

آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا 

باغباں گلچیں کو چاہے جو کہے ہم کو تو پھول 

شاخ سے بڑھ کر کف دل دار پر اچھا لگا 

کوئی مقتل میں نہ پہنچا کون ظالم تھا جسے 

تیغ قاتل سے زیادہ اپنا سر اچھا لگا 

ہم بھی قائل ہیں وفا میں استواری کے مگر 

کوئی پوچھے کون کس کو عمر بھر اچھا لگا 

اپنی اپنی چاہتیں ہیں لوگ اب جو بھی کہیں 

اک پری پیکر کو اک آشفتہ سر اچھا لگا 

میرؔ کے مانند اکثر زیست کرتا تھا فرازؔ 

تھا تو وہ دیوانہ سا شاعر مگر اچھا لگا

Post a Comment

0 Comments